PODCAST

The Urdu Poetry Podcast

Ahsan

https://youtube.com/channel/UCZeeGN023YdSweDmmiU0log

Start Here
Mujh se pahle (Ahmad Faraz) - Ahsan Tirmizi
May 25 2022
Mujh se pahle (Ahmad Faraz) - Ahsan Tirmizi
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو --- Send in a voice message:
Mujh se pahle (Ahmad Faraz) - Ahsan Tirmizi
May 25 2022
Mujh se pahle (Ahmad Faraz) - Ahsan Tirmizi
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو --- Send in a voice message:
Numuu (Obaidullah Aleem) - Ahsan Tirmizi
Dec 3 2021
Numuu (Obaidullah Aleem) - Ahsan Tirmizi
میں وہ شجر تھا کہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھی زمیں کی آنکھیں درازیٔ عمر کی دعاؤں میں رو رہی تھیں اور سورج کے ہاتھ تھکتے نہیں تھے مجھ کو سنوارنے میں کہ میں اک آواز کا سفر تھا عجب شجر تھا کہ اس مسافر کا منتظر تھا جو میرے سائے میں آ کے بیٹھے تو پھر نہ اٹھے جو میری شاخوں پہ آئے جھولے تو سارے موسم یہیں گزارے مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا عجب مسافر تھا رہ گزر کا جو چھوڑ آیا تھا کتنی شاخیں مگر لگا یوں کہ جیسے اب وہ شکستہ تر ہے وہ میرے خوابوں کا ہم سفر ہے سو میں نے سائے بچھا دئیے تھے تمام جھولے ہلا دئیے تھے مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا عجب مسافر تھا رہ گزر تھا کہ لمحے بھر میں گزر چکا تھا میں بے نمو اور بے ثمر تھا مگر میں آواز کا سفر تھا سو میری آواز کا اجر تھا عجب شجر تھا عجب شجر ہوں کہ آنے والے سہ کہہ رہا ہوں اے میرے دل میں اترنے والے اے مجھ کو شاداب کرنے والے تجھے مری روشنی مبارک تجھے مری زندگی مبارک --- Send in a voice message:
Jis roz qazaa aayegi (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi
Oct 24 2021
Jis roz qazaa aayegi (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi
کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اول شب بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب نیم وا کلیوں سے سر سبز سحر یک بیک حجرۂ محبوب میں لہرانے لگے اور خاموش دریچوں سے بہ ہنگام رحیل جھنجھناتے ہوئے تاروں کی صدا آنے لگے کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی شاید اس طرح کہ جس طور تہہ نوک سناں کوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگے اور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہ از کراں تا بہ کراں دہر پہ منڈلانے لگے جس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی خواہ قاتل کی طرح آئے کہ محبوب صفت دل سے بس ہوگی یہی حرف وداع کی صورت للہ الحمد بہ انجام دل دل زدگاں کلمۂ شکر بہ نام لب شیریں دہناں --- Send in a voice message:
Woh kitaab (Zehra Nigah) - Ahsan Tirmizi
Oct 16 2021
Woh kitaab (Zehra Nigah) - Ahsan Tirmizi
مری زندگی کی لکھی ہوئی مرے طاق دل پہ سجی ہوئی وہ کتاب اب بھی ہے منتظر جسے میں کبھی نہیں پڑھ سکی وہ تمام باب سبھی ورق ہیں ابھی تلک بھی جڑے ہوئے مرا عہد دید بھی آج تک انہیں وہ جدائی نہ دے سکا جو ہر اک کتاب کی روح ہے مجھے خوف ہے کہ کتاب میں مرے روز و شب کی اذیتیں وہ ندامتیں وہ ملامتیں کسی حاشیے پہ رقم نہ ہوں میں فریب خوردۂ برتری میں اسیر حلقۂ بزدلی وہ کتاب کیسے پڑھوں گی میں؟ --- Send in a voice message:
Har shay musafir har cheez rahi (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi
Oct 9 2021
Har shay musafir har cheez rahi (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi
ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میداں تو میر لشکر نوری حضوری تیرے سپاہی کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی یہ بے سوادی یہ کم نگاہی دنیائے دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے کردار بے سوز گفتار واہی --- Send in a voice message:
Aadarsh (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi
Sep 19 2021
Aadarsh (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi
کیسی ہے یہ رسم تاؤ کیا ہے یہ آدرش مان کی خاطر جان گنوائی دل کی خاطر پریت رات کی خاطر صبح بنائی ہار کی خاطر جیت چاند کی خاطر شہر بناۓ دشت کی خاطر قہر آنکھ کی خاطر اشک بناۓ جام کی خاطر ز ہر جسم کی خاطر فرش بنایا روح کی خاطر عرش گرد کی خاطر راہ بنائی راہ کی خاطر خار بوجھو تو پاگل کا سپنا سمجھو تو سنسار  --- Send in a voice message:
Naya Amrit (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi
Sep 11 2021
Naya Amrit (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi
دواؤں کی المایوں سے سجی اک دکاں میں مریضوں کے انبوہ میں مضمحل سا اک انساں کھڑا ہے جو اک نیلی کبڑی سی شیشی کے سینے پہ لکھے ہوئے ایک اک حرف کو غور سے پڑھ رہا ہے مگر اس پہ تو ''زہر'' لکھا ہوا ہے اس انسان کو کیا مرض ہے یہ کیسی دوا ہے؟ --- Send in a voice message:
Kal humne sapna dekha hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
Sep 5 2021
Kal humne sapna dekha hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
کل ہم نے سپنا دیکھا ہے جو اپنا ہو نہیں سکتا ہے اس شخص کو اپنا دیکھا ہے وہ شخص کہ جس کی خاطر ہم اس دیس پھریں اس دیس پھریں جوگی کا بنا کر بھیس پھریں چاہت کے نرالے گیت لکھیں جی موہنے والے گیت لکھیں دھرتی کے مہکتے باغوں سے کلیوں کی جھولی بھر لائیں امبر کے سجیلے منڈل سے تاروں کی ڈولی بھر لائیں ہاں کس کے لیے سب اس کے لیے وہ جس کے لب پر ٹیسو ہیں وہ جس کے نیناں آہو ہیں جو خار بھی ہے اور خوشبو بھی جو درد بھی ہے اور دارو بھی وہ الہڑ سی وہ چنچل سی وہ شاعر سی وہ پاگل سی لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں ہم نام نہ اس کا بتلائیں اے دیکھنے والو تم نے بھی اس نار کی پیت کی آنچوں میں اس دل کا تینا دیکھا ہے؟ کل ہم نے سپنا دیکھا ہے --- Send in a voice message:
Ek baar kaho tum meri ho (Ibn e insha) - Ahsan Tirmizi
Aug 30 2021
Ek baar kaho tum meri ho (Ibn e insha) - Ahsan Tirmizi
ہم گھوم چکے بستی بن میں اک آس کی پھانس لیے من میں کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو جب جیون رات اندھیری ہو اک بار کہو تم میری ہو جب ساون بادل چھائے ہوں جب پھاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہو جب سورج دھوپ نہاتا ہو یا شام نے بستی گھیری ہو اک بار کہو تم میری ہو ہاں دل کا دامن پھیلا ہے کیوں گوری کا دل میلا ہے ہم کب تک پیت کے دھوکے میں تم کب تک دور جھروکے میں کب دید سے دل کو سیری ہو اک بار کہو تم میری ہو کیا جھگڑا سود خسارے کا یہ کاج نہیں بنجارے کا سب سونا روپا لے جائے سب دنیا، دنیا لے جائے تم ایک مجھے بہتیری ہو اک بار کہو تم میری ہو --- Send in a voice message:
Rang hai dil ka mere (Faiz Ahmed Faiz)- Ahsan Tirmizi
Jul 8 2021
Rang hai dil ka mere (Faiz Ahmed Faiz)- Ahsan Tirmizi
Please subscribe to this podcast, thanks. --- Send in a voice message:
Bahaar aai (Faiz Ahmed 'Faiz') - Ahsan Tirmizi
Jun 23 2021
Bahaar aai (Faiz Ahmed 'Faiz') - Ahsan Tirmizi
بہار آئی تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے وہ خواب سارے شباب سارے جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے نکھر گئے ہیں گلاب سارے جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں جو تیرے عشاق کا لہو ہیں ابل پڑے ہیں عذاب سارے ملال احوال دوستاں بھی خمار آغوش مہ وشاں بھی غبار خاطر کے باب سارے ترے ہمارے سوال سارے جواب سارے بہار آئی تو کھل گئے ہیں نئے سرے سے حساب سارے --- Send in a voice message: